یادگارستان
کیا خبر تھی گزشتہ شام کچھ ایسا ہوگا جو یادگار ہوجائے ۔ میں نے۔ آج تک سیکڑوں بچوں اور بچیوں کو پڑھایا ہے ,بفضلِ خدا لیکن وہ بچیاں جن کا گریجویشن مکمل ہوا ان میں یاسمین خاتون ، حلیمہ سلطان ، آفیہ انجم ،زیبا ناز ، شبنم پروین ، رابعہ خاتون ، نازنیں بانو اور نیلوفر عشرت شامل ہیں سبھی بچیاں کل یعنی 4 ستمبر 2024 بدھ کی شام میرے گھر آئیں ۔ وہ مجھے جذباتی کرگئیں ، اپنی جانب سے مجھے تحفہ پیش کیا اور کیک کا انتظام بھی تھا ۔ اسے کیسے بھول سکتا ہوں ۔۔۔
اس دن سے قبل رات کے 1 بجے کے قریب شبنم کا مجھے پیغام آیا
بھائی۔۔۔۔ میں نے جواباً کہا شبنم اور پھر مجھے نیند آگئی صبح اٹھ کر دیکھتا ہوں کہ ناراضگی کے سبب کچھ ایسے میسج تھے جو ڈلیٹ کیے جا چکے تھے ایک میسج باقی تھا جس میں یہ لکھا تھا کہ بھائی مجھے جب بھی ضرورت پڑتی ہے آپ میرے میسج کو نہیں دیکھتے ہیں ۔ مجھے حیرت ہوئی ۔۔۔ شبنم میسج کیوں ڈلیٹ کی ؟ کیا بات ہے ؟ میں نے پوچھا اور وہ خفگی میں بولی کچھ بات تھی خیر اب گھر آ کر کروں گی شام کے وقت ، بھائی بات ایسی ہے کہ آپ ناراض بھی ہوسکتے ہیں ۔ اس جملے سے میں ذرا پریشان ہوا ۔۔ شبنم ایسی کون سی بات ہے ، کس موضوع پر گفتگو کرنی ہے ، کچھ بتا دیجیے ۔ لیکن وہ تو شبنم ہے۔۔۔۔ہے تو میری شاگردہ ، پر ذہین و متین بھی ہے ۔ بس مجھ سے اقرار کروا کر ہی دم لی کہ میں شام کے وقت گھر پر رہوں ۔۔ دن بھر کی مصروفیت کو میں نے بالائے طاق رکھ دیا اور شام کا منتظر ٹھہرا ۔ دوپہر کی چلچلاتی دھوپ کے سبب میں گھر سے نکلا بھی نہیں اور گھر میں برقی سپلائی میں بار بار آمد و رفت ہونے کی وجہ سے گرمی بےتحاشہ ہو رہی تھی ۔ پریشان بھی ہو رہا تھا ۔ ایک لمحے کو دل ہوا کہ میں باہر جاؤں ، کرتا پہن کر گھر سے نکل ہی رہا تھا کہ شبنم کے پیغام کا خیال آیا اور قدم رک گئے ۔ گرمی تھی لیکن شبنم کے واسطے ٹھہرنا پڑا ۔ دن ڈھلا شام کے وقت آسمان پر شفق کی لالی نے موسم کو نہایت ہی خوش گوار بنادیا تھا جس کا مزا لینے کے لیے میں چھت پر چلا گیا ۔ اپنے موبائیل سے لگا ہوا تھا ، ایک دو کالز آئیں تھیں تو میں بات ہی کر رہا تھا ۔ شام کے 5 بج کر کچھ منٹ گزر چکے تھے اسی دوران شبنم کا کال آیا ۔۔۔ اپنے چلبلاتے لہجے میں مخاطب ہو کر بولی بھائی آپ نے وقت دیا تھا ، تو گھر پر ہی رہنا چاہیے تھا ، کب سے بیٹھے ہیں ہم ، اب گھر جا رہے ہیں ۔ میں نے کہا ذرا ٹھہرو میں گھر پر ہی تھا ابھی ہی چھت پر آنا ہوا ہے میں آتا ہوں نیچے ۔ میں جس عمارت میں رہتا ہوں وہ پانچ منزلہ ہے تیسری منزل پر میرا مکان ہے اور چھت پانچویں منزل پر ہے مشکل سے دو منٹ لگتے نیچے جانے میں چونکہ میں کال پر بات کر رہا تھا تو تاخیر ہورہی تھی کہ امی چھت پر یہ کہتی ہوئی آئیں کہ شہباز کیا کر رہے ہو بچیاں آئی ہوئیں ہیں ۔ میں ایک لمحے کے لیے سوچنے لگا بچیاں !!!!! مجھے اندازہ ہونے لگا شاید شبنم نے سبھوں کو بلایا ہے تاکہ سب سے ملاقات ہو سکے ۔۔۔گھر میں داخلے سے پہلے دروازے میں چپلوں کی تعداد نے مجھے مطلع کردیا کہ سبھی آئیں ہوئی ہیں ۔ گھر کا دروازہ کھلا تھا میں بنا بیل بجائے واردِ خانہ ہوا ۔ عادت کے مطابق سب کو سلام پیش کیا ۔ سب کو دیکھتے ہی دل کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا چونکہ بیٹھی ہوئی وہ بچیاں تھی جنہوں نے تقریباً تین سال مجھ سے تعلیم حاصل کی اور اب ڈگری یافتہ ہوچکی ہیں،
آپ سب آئی ہوئی ہیں میں نے برجستہ کہا اور حسب معمول کرسی پر بیٹھ کر سامنے میز بھی رکھ لی ۔ مجھے اس وقت احساس ہو رہا تھا کہ تعلیم روشنی ہے اور استاد اسکا سر چشمہ ۔ مجھ سے بھی اس طرح روشنی کی کرن پھوٹے گی یقین نہیں تھا بہر حال روایتاً میں نے ناصحانہ گفتگو شروع کی اور انہیں ایک کہانی سنائی ۔ میں نے کہا استاد اور شاگرد پر ایک قصہ سنیے ۔ ایک نئے استاد کلاس میں داخل ہوئے ۔ بچوں نے نیا ٹیچر دیکھ کر شورشرابا کیا لیکن نئے استاد نے بڑے ہی پیار سے خاموش کرتے ہوئے کلاس کو دلچسپ بنانے کی کوشش کی ۔ استاد نے ایک سوال کیا جس کے جواب کے لیے ایک ایسے لڑکے کی طرف اشارہ کیا جو جماعت کا نالائق اور نا خلف بچہ تھا ۔ سبھی بچے یہ دیکھ کر ہنسنے لگے کہ نئے استاد نے پہلی بار اپنی کلاس میں کسی سے جواب مانگا بھی ہے تو کس سے ۔ اور پھر ہنسی جاری رہی وہ بچہ چونکہ بدمعاش بھی تھا ۔ لیکن استاد کا نیا ہونا اس کی بدمعاشی کو چھپا گیا ۔ کلاس کی معیاد ختم ہوئی سارے بچے نکلنے لگے ۔ وہ نالائق بچہ بھی جانے لگا تو نئے استاد نے اسے روک لیا ۔ اور سارے بچوں کے جانے کے بعد انہوں نے اس بچے کو کاغذ پر ایک سوال و جواب لکھ کر دیا اور یہ کہا کہ اسے وہ اچھی طرح یاد کر لے کیونکہ آئندہ کل کلاس میں یہی سوال کیا جائے گا ۔ اس بچے نے نئے استاد کی بات مانی اور کاغذ میں لکھی تحریر کو حفظ کرلیا دوسرے دن کلاس لگی سارے بچوں سے استاد نے سوال کیا اس بار سوال آسان نہیں تھا سب پر خاموشی چھا گئی ۔ استاد نے دوبارہ سوال کیا اور پھر کہا کسی کے پاس جواب نہیں ہے ۔ یہ سن کر اسی بچے نے ہاتھ اٹھایا جس کے کھڑے ہونے پر کل سبھی ہنس رہے تھے ۔ وہ اٹھا اور جواب دے دیا ۔ استاد نے بہت تعریف کی اور سب کے سامنے اسے بہت سراہا بچہ نو آزمودہ تھا ۔ استاد کا یہ عمل اس بچے کے لیے اور کچھ دنوں تک برقرار رہا ۔ اس طرح وہ بچہ جو نالائق نا خلف تھا استاد کی حکمت سے وہ خود اعتماد ہوگیا اور اپنی پڑھائی کی بابت فکر مند بھی رہنے لگا ۔ ساتھ ہی محنت بھی شروع کردی ۔ اس طرح استاد نے ایک نافرمان و بد تمیز بچے کو بھی باشعور و با ادب کردیا ۔با ادب با نصیب ۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کہانی سنانے کے بعد میں نے کہا آپ سب بھی کبھی نہ کبھی اگر استانی بنیں تو ایسی ہی استانی بنیے گا ۔ اپنے شاگردوں کی کمیوں کو پرکھ لیجیے گا ۔
میں نے جو کچھ کہنا تھا کہا اور علاوہ ازیں بھی بہت ساری باتیں میں نے بتائیں ۔ اور پھر بچیوں سے کہا کہ آپ لوگ اب کچھ کہئے ۔۔۔۔ شبنم بول پڑی فائنلی اب ہم لوگوں کو بولنے کا موقع ملا ۔ یہ کہہ کر وہ محفل میں چٹخارہ کرگئی ۔ سب ہنسنے لگے اور میں بھی ۔۔۔ پھر ایک ایک کر کے سبھوں سے میں نے تبصرہ کروایا۔۔کسی نے تین سال کے سفر میں ہوئی بہت ایسی ساعتوں کو آنکھوں کے سامنے رکھ دیا ۔ کسی نے میری تعریف کی تو کسی نے میرے پڑھانے کے انداز کو سراہا میرے لہجے اور طریقۂ کار کو اچھا بتایا گویا شاگردہ ہونے کا حق ادا کیا۔۔۔ یاسمین وہ طالبہ ہے جسے بارہویں جماعت سے میں نے پڑھایا ہے ۔ اس نے پہلی ملاقات یعنی پہلی کلاس کا ذکر کیا ۔ ان دنوں میں خوب بن ٹھن کے رہا کرتا تھا ۔ وہ بولی سر جب پہلی بار میں نے دیکھا کہ ایک لڑکا سا کرتا پاجامہ اور تولیہ کندھے پر رکھے ہوئے پڑھانے آیا ہے ، کتنا کڑوا ، سخت اور کھڑوس ہے ۔ لیکن پہلی ہی کلاس کے بعد مجھے آپ کی ہی کلاس کی عادت لگ گئی ۔ آپ کی کلاس میں دلچسپی ملنے لگی ۔ تب سے لیکر آج تک مجھے آپ کی کلاس میں بہت اچھا لگتا ہے۔۔۔نازنیں کہنے لگی سر میں خود کو کسی قابل نہیں سمجھتی تھی لیکن آپ نے مجھے احساس دلایا کہ میں کچھ ہوں ۔۔۔ دراصل نازنیں وہ بچی ہے جس کے اندر نثر لکھنے کی بہت اچھی صلاحیت ہے خدا اسے اس فن میں کامیاب کرے ۔۔۔ مجھے اب لگتا ہے کہ میں بھی کچھ کر سکتی ہوں نازنیں کے ان جملوں نے مجھے جذباتی کردیا ۔۔۔ سب نے اپنی اپنی طرف سے بہت کچھ کہا سب کی گفتگو میں جو ایک مشترک بات تھی وہ یہ کہ میں وقت کی پابندی کروں۔۔۔ہاں یہ مجھے بہت نقصان پہنچا رہا ہے ۔ وقت اور طاقت سے زیادہ کام لینے سے یہی ہوتا ہے کہ کچھ نہیں ہو پاتا ۔۔۔ حلیمہ جو کہ میری ایسی شاگردہ ہے جس پر مجھے فخر ہے اس کے زبان و بیان سے مجھے احساس ہوتا ہے کہ یہ بچی اردو زبان کے لیے ایک اثاثہ بنے گی ۔ فی الوقت مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاریوں میں گامزن ہے ۔ بڑے ہی دردمندانہ لہجے میں اس نے آنکھوں سے چشمہ ہٹا کر کہا ۔۔۔ سر آپ اس قدر ذہین ہیں آپ چاہیں تو بہت کچھ کر سکتے ہیں آپ ہمیں چاہتے ہیں کہ ہم کچھ بنیں تو سر میری اور میری ساری سہیلیوں کی بھی یہ خواہش ہے کہ آپ بھی کچھ بنیں ۔ سر آپ سماجی ، فلاحی کاموں میں اس قدر مصروف ہوچکے ہیں کہ آپ نے اپنی شخصیت کی تعمیر سے نگاہ ہٹا لی ہے ۔ سر آپ پلیز خود پر دھیان دیجیے اور از راہ کرم اپنی شخصیت کا احساس دلائیے ۔ آپ کے دشمن اور حاسد دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں ۔ ان کو سر کے بل گرانے کے لیے آپ کو خود پر دھیان دینا ہوگا۔۔۔
شاگرد کی تنقید، استاد کی کامیابی کی علامت ہوتی ہے ؛ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ شاگرد نے استاد کی تعلیم کو سمجھا اور اس پر غور کیا ہے ۔
تبصرے