غزل

غزل

زباں  خاموش  ہے  دل کہہ  رہا ہے
اچانک  یہ  مجھے ہو کیا   گیا  ہے

کبھی ہی مل نہیں  سکتا مجھے جو
اسی  پر  کیوں  فدا  یہ دل ہوا ہے

تو  باتیں  کتنی  پیاری  کر  رہا  ہے
ترا  لہجہ  مجھے   اچھا   لگا    ہے 

مری آنکھوں کو کیوں تم دیکھتے ہو
ترا  چہرہ  ہے  اس  میں اور کیا ہے

خدا کو کیوں  پکاروں  زاہدوں میں
مجھے معلوم ہے مجھ میں خدا  ہے


نہ  نیند  آئی نہ آیا  چین بھی  اب
یہ خالدؔ عشق ہے یا پھر بلا ہے




تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

غزل

نکاح ایک درس