نکاح ایک درس
نکاح۔۔۔۔اسلام نے جتنا اسے آسان بنایا ہے اسلام کے ماننے والوں نے اتنا ہی اسے مشکل ترین بنادیا ہے یہی وجہ ہے کہ آج سماج میں بے حیائی عام ہوچکی ہے اور نوجوان نسل زیادہ سے زیادہ فحاش ہوگئی ہے قانون اسلام ہے کہ سن بلوغیت ہوتے ہوتے جلد از جلد ازدواجی زندگی سے منسلک ہونا بھلائی کی راہ ہے مگر ہم اس بھلائی کی راہ کو اتنا گٹھن بنا گئے ہیں کہ سن بلوغیت آتے ہی نکاح کے علاوہ ہر کام آسان نظر آتا ہے ۔۔۔ اس مشکل ترین روایت نے غریب کے گھروں میں بے حیائی کو پس پردہ خوب ہوا دی ہے غریب لڑکے ہوں یا لڑکیاں سن بلوغیت پاتے ہی نفس سے مغلوب ہو کر ایسے کام کر جاتے جس کا افسوس کہیں نا کہیں انہیں بھی رہتا ہے ۔۔ نکاح کو شادی بنایا گیا اور بد مذہب رسم و رواج شامل کیے گئے اور آج اس پاکیزہ دستور کے بت پاش پاش ہوتے ہوئے نظر آ رہے ہیں مگر وہ کہتے ہیں نا کہ کچھ لوگ باقی ہیں کہ جنہیں سمجھایا جائے تو سمجھتے ہیں
آصف اقبال انہیں میں سے ہے زندگی کی کم سنی ہی میں خوب تجربے کرنے کا عادی ،سن بلوغیت پر قدم رکھتے ہی سوچنے پر مجبور ہوا کہ میں کیا کروں خود کو فحاش بنانے سے اچھا ہے کہ ذہن کو گھریلوں معاملات میں الجھا دوں کوشش تو اچھی تھی پر اس کی مدت زیادہ نہیں رہی وہ کچھ دنوں کے لیے گھر کی پریشانیاں مٹانے کی غرض سے اپنے وطن سے دور چلا گیا وہاں سبھوں سے دور رہا اور اپنے والدین کے تئیں خدمات انجام دیتا رہا ، وہاں نا جانے کیسی کیسی صعوبتیں برداشت کی ہوگی کیسی کیسی گٹھنایوں کا سفر کیا ہوگا وہاں ، جہاں اپنا کوئی نہیں ، ماں ، باپ ، بہن ، بھائی ، دوست ، اپنے ، احباب اقارب ، سب سے دور جب میں سوچتا ہوں تو ایک ساعت کو ساکت ہوجاتا ہوں خیر زندگی انہیں پریشانیوں سے ہو کر گزرتی ہے جب آصف سبھوں سے دور ہو کر سبھوں کے بارے میں سوچ رہا تھا اس کا یہ سوچنا والدین کو احساس دلایا کہ اب بیٹا جوان ہوچکا ہے اور کہیں سن بلوغیت میں خود کو نقصان نہ کر بیٹھے اسی وجہکر آصف کے غیر وطن رہتے ہی اس کے والدین اس کی خاطر اس کی حیات میں شریک رہنے والی ایک صنف نازک کی تلاش شروع کی والدین کی کوشش تھی کہ کسی دولت مند لڑکی سے رشتہ کرنے کے بجائے غریب گھر کی دختر کا انتخاب کیا جائے تلاش جاری رہی اور وہ وقت آیا جب آصف صاحب کی غیر وطن سے اپنے وطن آمد ہوئی آمد کے چند دنوں کے بعد والدین کی جستجو مکمل ہوئی آصف یہاں آ کر والدین کے مطابق سوچنے لگا اور اپنی جوانی کی حفاظت کے لیے نکاح کرنے کا خیال اس کے ذہن میں گشت کرنے لگا تذبذب اور آشفتہ سری کے احوال نے اس کے قلب کو اور مضطر بنادیا ۔ گارجین کی قلبی نگاہ نے تلاش پوری کی جو خود آصف کے دل کی آواز تھی وہ ایک۔۔۔ جس کی تلاش پوری ہوئی وہ پیسوں سے نہیں پیار سے امیر تھی وہ جس کی جستجو مکمل ہوئی وہ سیم و زر سے نہیں بلکہ شرم و حیا کا پاس رکھنا جانتی تھی ، عنقریب جلد از جلد رشتے کی باتیں شروع ہوئی دونوں فریقین کے مابین رشتہ منظور ہوا ، لیکن شادی کی تاریخ طئے ہونے میں تاخیر ہوئی ادھر آصف صاحب کے یہاں تعجیل تھی مگر وہاں لڑکی کے گھر والے اس تحلیل میں تاخیر کرنا چاہتے تھے اور اسی وجہکر تاریخ کے طئے نہ ہونے سے انہیں امید ملی پر معاملات اس کے متضاد تھے از جلد دونوں فریقین نے طئے کر ہی لیا تاریخ طئے ہوئی اور تیاریاں شروع ہوئی اور چند دنوں کے بعد وہ وقت آیا جب آصف کے ارمانوں کی معراج ہونے والی تھی گھر والوں خواہش تکمیل کو پہنچنے والی تھی ، لڑکی والوں نے حسب معمول کہا شادی کے لیے ہمیں کیا کیا انتظامات کرنے ہونگے جہیز میں کیا دینا ہوگا ۔۔۔ قربان میں صدقے گھر والوں کے سبھوں کا جواب آیا کچھ نہیں ہم نبی کی سنت کا راستہ اپنانا چاہتے تھے ، یہ جملہ دور جدید کے دولت مند اور غیرت مند اشخاص کے لیے پیغام دیتا ہوا نظر آ رہا ہے آصف صاحب کے والد محترم جنہوں نے ایسا کام کیا کہ وہ میرے اوراق میں زندہ و جاوید ہوگئے محترم کا نام بھی جاوید ہی ہے ، ولد و ولدیت نے اس دور میں جہاں دو نئے رشتے بنانا مشکل سے مشکل ترین ہو چکا ہے وہاں اتنی آسانی کے ساتھ تعلق برقرار رکھنے کا کام انجام دیا ، مہمانوں کی آمد ہوئی ، نوشہ تیار ہوا اور چلا سنت ادا کرے ، روزِ ادینہ یعنی جمعہ کا دن تھا پہلے فرض کی ادائیگی کی پھر مسجد کے محراب کے قریب پہنچا وہاں قاضی اور مفتی کی موجودگی تھی کاغذاتی معاملات ہوئے پھر وہاں سے مفتی و قاضی گاڑی کی مدد سے لڑکی کے استراحتکےمقام پر گئے اجازت لینے اجازت لیکر وہاں سے لڑکی چند لڑکی والوں کے ساتھ دوبارہ مجسد پہنچے نوشہ جو سر پر دستار باندھے بیٹھا تھا سامنے اس کے مفتی صاحب کھڑے ہوئے کر نکاح کا خطبہ پڑھنا شروع ہوا ادھر جاوید صاحب کے آنکھیں نم ہوئی محفل میں خاموشی تھی مفتی صاحب گویا ہوئے حاضرین ، گواہوں اور وکیلوں کی موجودگی کہیے کیا آپ کو قبول ہے آصف نے شہادت کا کلمہ پڑھا اور قبلت کہا ، کہتے ہی آنکھیں نم ہوئی، مسجد میں موجود سبھی حضرات اس نقشے سے پیغام لے رہے تھے کہ ہاں اس طرح بھی نکاح کیا جا سکتا ہے ۔ نکاح ہوا مسجد میں کھجور تقسیم ہوا لڑکی والے اپنے گھر گئے اور لڑکے والے اپنے گھر کی طرف روانہ ہوئے ، کبھی کبھی بزرگوں کی کچھ کچھ باتیں ماننی پڑتی ہیں تبدیل ضروری ہے مگر اچانک بدلاؤ کرنا بغاوت میں شمار ہونے لگتا ہے آصف کے گھر کے چند برزگ کی خواہش تھی کہ خاندان کے بیٹے کے چہرے پر پھولوں کی لریاں خوشبوں پھیرائے یہ بھی ہوا آصف کے لیے باغ سے پھول منگوائے گئے سہرا سجایا گیا تاکہ زمانے کہیں تنقیص نا کرے ، نوشہ تیار ہوا اور نکلا دولہن کو لانے چلا چند ہی لوگ باراتی بن کر ساتھ گئے اور دلہن کے گھر پہنچا وہاں لڑکی والوں نے بساط کے موافق خورد و نوش کا اہتمام کیا ہوا تھا سب نے تناول فرمایا اور جلد ہی فراغت کے کر واپسی کی تیاری میں لگ گئے ، بلا توقف تیز رفتاری کے ساتھ لڑکی والوں نے بیٹی کو رخصت کیا ، آصف نے پہلے ہی سے سارے ساز۔ و سامان کا انتظام کر لیا تھا اس سے کسی کی بیٹی کو آرام دینے کے لیے خود کے پیسوں سے پلنگ الماری اور دیگر تمام ضروری اشیاء مہیا کیے ہوا تھا ، دلہن گھر آئی اور لوگوں نے بہت ہی احترام سے پیار و محبت سے خوش آمدید کیا
بہترین نکاح وہ ہے کہ جس میں لڑکی والوں کو ایک تنکے کا بھی بار نہ پڑے اور لڑکی والوں کو بھی چاہیے کہ وہ لڑکوں کی اس طرح تفشیش نہ کریں کے لڑکا کتنا کماتا ہے کیا کرتا ہے اس کی اوقات و حیثیت کیا ہے بلکہ لڑکوں کے کردار پر نگاہ رکھے خدا رازق ہے وہ ہمیشہ شاد رکھے گا ۔۔۔۔۔
از:- شہباز خالد کلکتوی

تبصرے