شکاری
شہباز خالؔد کلکتوی
خدا نے اسے نہایت ناز سے خلق کیا ہے شاید اس کے جسم کو بہت انوکھے انداز میں ڈھالا ہے بہت خوبصورت ہے اسکی خوبصورتی کا کوئی بھی گرویدہ ہوجائے اسکی آنکھوں میں نشہ ہے جادو ہے اسکی لہراتی زلفیں کسی بادل سے کم نہیں اس کا چلنا بجلیوں سا اس کا بولنا ایسا کہ جو ایک بار آواز سن لے تو ہمیشہ کیلئے اس کے کانوں میں وہ آواز سلامت ہوجائے مجھے یاد ہے اس روز بھی وہ سب سے الگ لگ رہی تھی جب ہم لوگ خوشیاں منانے گئے تھے پروگرام کے کامیابی کی خوشی کا جشن تھا بہت سارے لوگ تھے ساتھ میں حریم بھی تھی ....
جانے سے ایک روز پہلے باقی سب تیار تھے جانے کیلئے مگر حریم اور میں تیار نہیں تھا سب مجھے کہہ رہے تھے کہ آپ کو بھی چلنا ہے آپ نہیں جائیں گے تو اچھا نہیں لگے گا اور میں یہ الفاظ حریم سے کہہ رہا تھا کہ حریم آپ چلیں گی تو میں بھی جاؤنگا وہ مان گئی تو راتوں ہی راتوں میں نے سبھوں کو بتادیا کہ میں بھی جاؤنگا پر حریم جائیگی اس بات کو راز رکھا دوسرے ہی دن صبح سویرے سب تیار ہوکر بس کی طرف پہنچے تاکہ سب من مطابق جگہ حاصل کر لیں چونکہ میری ذمہ داریاں بھی تھی تو مجھے اور سارے کام دیکھنے تھے اسی لئے میں وہ سب دیکھ رہا تھا سبھی بس میں بیٹھ چکے تھے میں بس میں گیا بھی نہیں تھا کیونکہ مجھے انتظار تھا کہ کوئی آنے والا ہے یہ بھی اتفاق ہی ہوا کہ جہاں پر بس رکی تھی اس سے تھوڑے فاصلے پر سے مجھے حریم کو لانے جانا پڑا جب میں اپنے ساتھ حریم کو لیکر وہاں پہچا تو سب دیکھ کر اور خوش ہوگئے...... سفر کی شروعات بہت ہی بہترین طریقے سے ہوئی تعداد میں ہم سب بہت زیادہ تھے اسی طرح الگ الگ سوچ کے بھی سب موجود تھے کسی کو یہ خبر نہیں تھی کہ ہمارا جشن کیسا ہونے والا ہے
مستی کرتے ہوئے سب جارہے تھے میں بس کے دروازے پر بیٹھ گیا تھا تاکہ سب مستی کرتے کرتے گر نا جائیں اور وہ بس کے دروزے پر کھڑی تھی میرا خیال اسی پر تھا اور اس کا خیال مستی میں تھا اسکے دوست اسکے قریب تر موجود تھے سب موج کرتے ہوئے سفر کا مزا لے رہے تھے جب بس پل سے گزرتی تو سب اور تازگی محسوس کرتے ساتھ ہی اپنے دل کو تازہ دم کرتے ہوئے سب لطف اندوز ہوتے آخر وہ وقت بھی آگیا جب بس رکی وہ جگہ آگئی جو ہماری اس دن کی منزل تھی آگئی سب تعجیل سے اترنے لگے ....
چلو آگئے ہم سب یہاں خوب مزے کرنا قمر بھائی بولے میں یہاں کئی بار آچکا ہوں بہت اچھے سے ہر جگہ کا علم ہے کہاں کیا ہے جب کسی کو سمجھ نا آئے تو مجھ سے رابطہ کرے میں اسے پورے علاقے کی سیر کروا دونگا
سبھوں نے پہلے خوردن کا عمل انجام دیا...... سب کوئی غور سے سنیں ہم سب تعداد میں بہت زیادہ ہیں اور سب شعور مند ہیں تو لہذا سب اپنا خیال رکھے گے کوئی ایک دوسرے سے بچھڑے گے نہیں یہ بات ضیا صاحب نے اور میں نے دونوں نے مل کر کہی قمر بھائی بولے آپ میں سے کسی کو کوئی دقت ہو تو مجھ سے رابطہ کیجیے گا میں اچھے سے سیر کرواؤنگا
حریم نا جانے کیا سوچ رہی تھی میں اسے اکیلا ہی دیکھ رہا تھا ہر وقت میں نے اس کے دوستوں سے کہا کہ وہ حریم کو بھی خوش رنگ پھولوں اور خوشنما ماحول سے آشنا کروائیں
وہ اکیلی ہے اسکو جاؤ دیکھو آخر حریم ایسے کیوں ہے میں نے امجد اور صغیر سے کہا دونوں ہی حریم کے دوست تھے ان کے علاوہ اور بھی دو قریبی دوست موجود تھے حریم کے .... لیکن میں نے صغیر کو کہا حریم کے قریب رہنے کیونکہ صغیر شاید پسند کرتا تھا اور اس نے مجھے یہی کہا تھا کہ حریم بھی اسے پسند کرتی ہے
تم کیا کر رہی ہو اکیلی چلو وہاں سب کے ساتھ چلتے ہیں صغیر نے حریم سے کہا ...ہم.سب یہاں دل کی اضطرابی کو مٹانے آئیں ہیں اور تم ہو کی تنہا تنہا چل رہی ہو
جاؤ نا مجھے اکیلا اچھا لگ رہا ہے تم سب کے ساتھ مستی کرو حریم نے صغیر سے کہا
وہ کہہ رہی ہے کہ اسے اچھا لگ رہا ہے اکیلا رہنا جب مجھے خبر ہوئی صغیر کے ذریعہ تو میں نے اسے آواز لگائی اور وہ میری آواز پر لبیک کہتی ہوئی جلد آئی میں نے کہا حریم آپ امجد اور صغیر کے ساتھ رہیے یوں اکیلا رہنا ٹھیک نہیں شاید میری چھٹی حس مجھے کچھ ہونے والا سانحہ کا پتہ دے رہی ہو
جی ضرور میں آپ سب کے ساتھ رہونگی چلیے ....حریم اس سیر کی جگہ میں سبھوں کے ساتھ تصویر لینے میں لگ گئی میں نے دیکھا سب خوش ہیں میں بھی خراماں خراماں آگے کو چلنے لگا
صغیر یہاں آؤ یہاں ہم تصویر لیتے ہیں قمر بھائی نے صغیر کو آواز دے کر بلایا چونکہ سب انکی بہت عزت کرتے تھے اسی لئے قمر کے ساتھ جتنے لوگ تھے سب چلے گئے حریم اور میری منھ بولی بہن شبانہ بھی ساتھ تھی
بھائی ہم لوگوں کی تصویر لیجیے گا صغیر نے کہا
ہاں ٹھیک ہے سب آؤ سب کی تصویر لونگا ایک ایک کر کے وہ سب کے ساتھ خود کی بھی تصویر لے رہے تھے اور الگ الگ طریقے سے جسے ہم عام زبان میں پوز دینا کہتے ہیں وہ الگ الگ پوز میں تصویر لے رہے تھے کبھی اس کو پکڑ کر کبھی اس کو پکڑ کر وہ سب خوش تھے اور انہیں اچھا لگ رہا تھا کہ قمر بھائی جیسے بڑے اور قابل شخص ان کی نگرانی کر رہے ہیں
ہم سب بہت آگے نکل چکے تھے اور ہماری تعداد بکھر گئی تھی
اور حریم بھی نظروں سے اوجھل تھی ان کے ساتھ انکے دوست امجد صغیر اور میری منھ بولی بہن شبانہ ، حریم کے دو اور دوست ان سب کے ساتھ قمر بھائی
یہاں آؤ ہم یہاں سے تصویر لیتے ہیں قمر بھائی ان سبھوں کو کہنے لگے اسی درمیان قمر بھائی نے شبانہ کے گلے میں زوروں سے ہاتھ لگایا تو شبانہ ناراض ہوئی اور حریم کے دوستوں سے کہنے لگی کہ یہ مجھے مشکوک شخص لگ رہے ہیں نہایت تذبذب کے ساتھ کہا چلو یہاں سے حریم ہم لوگ باقی لوگوں کے ساتھ چلیں..... شبانہ نے ایسی حرکت کا جواب انہیں بدکلامی سے دی اور ان سے نالاں ہی ہوگئی اور وہ راستہ منقطع کرلی ان لوگوں سے ...
انسان کو دو چیزیں بربادی کے دہانوں تک لے آتی ہیں اور وہ دو چیزیں ہیں شہرت اور شہوت جس نے ان دو دیو سے اپنی حفاظت کی وہ وقت کا شہنشاہ بنا اور جو اس کے اسیر ہوئے انکی زندگی ملعون جیسی بنی یا پھر ان کا انجام بہت برا ہوا قمر صاحب کا معاملہ کچھ بگڑتا ہوا نظر آرہا تھا
حریم .. شبانہ کہاں گئی ....
وہ چلی گئی شاید آگے ہوگی اچھا یہ بات ہے
خیر امجد صغیر چلو ہم لوگ بھی گھومتے ہیں سب تو سیر کرنے میں لگے ہیں چلو ہم لوگ بھی سیر کریں مزے کریں مجھے یہاں کی ہر جگہ کا علم ہے گھبرانا مت کچھ نہیں ہوگا قمر بھائی کہہ رہے تھے
وہ شبانہ کے بعد حریم پر نگاہ جمائے ہوئے تھے اور ہر گھڑی حریم کے آگے پیچھے رہ رہے تھے قمر بھائی نے کہا چلو ہم لوگ کوئی کھیل کھیلتے ہیں جس میں امجد اور صغیر ساتھ رہے گے اور حریم میرے ساتھ ہوجائے گی کھیل شروع ہوا اور حریم قمر بھائی کے ہمراہ ہوگئی اب جس طرح ایک بڑی تعداد اس بڑے سے میدان میں نظروں سے اوجھل ہوچکی تھی یہ چاروں بھی الگ الگ ہوگئے صغیر اور امجد یہ تلاش کرتے کرتے ہم سب کی طرف آگئے چونکہ ہم لوگ سب مصروف تھے تو دھیان نا رہا کہ کون کون ساتھ ہے اور کون کون ساتھ نہیں اسی وجہکر پوچھنے کی کوشش نہیں کی اور صغیر نے بھی کچھ نہیں بتایا کہ حریم کہاں ہے کیونکہ اسے قمر بھائی پر یقین تھا کہ اگر حریم ان کے ساتھ ہے تو وہ محفوظ ہیں مگر کسے خبر تھی کہ بلّی کے ہاتھوں میں دودھ کی نگرانی دے دی گئی تھی قمر بھائی نے حریم سے اپنے نفس کو خوش کرنا شروع کیا پہلے اسے فحاشی انداز سے چھونا شروع کیا اور پھر کہنے لگے حریم آؤ تصویر لیتے ہیں یہ کہہ کر قمر نے حریم کے کمر میں ہاتھ دیا اور اپنے ہاتھوں سے اس کی عصمت تار تار کرنے کی کوشش شروع کی حریم چھوٹی تھی قمر سے وہ کچھ بول نہیں پا رہی تھی
حریم صغیر تم سے پیار کرتا ہے کیا تم بھی کرتی ہو قمر بھائی نے پوچھا
نہیں میں تو بس اسے دوست سمجھتی ہوں
اچھا تو صغیر یہ کیوں کہتا ہے سبھوں کو کہ حریم اسے پیار کرتی ہے ... مجھے نہیں معلوم وہ ایسا کیوں بولتا ہے پر میری طرف سے ایسا کچھ بھی نہیں ہے حریم افسردگی کے ساتھ بولی اور نہایت خوفزدہ بھی ہوچکی تھی
قمر بھائی اس کے ہاتھوں کو زور سے پگڑے اور کہنے لگے کہ تم مجھ سے پیار کرو نا میں تمہیں سب کچھ دونگا جو تمہیں چاہیے میں وہ سب کچھ دونگا حریم کہتی ہے نہیں مجھے یہ سب نہیں کرنا مجھے سب کے پاس لے چلیے ... مگر قمر بھائی کو تنہائی چاہیے تھے اپنے حوس کو پورے کرنے کیلئے وہ اسے کسی ایسی جگہ پر لےگئے جہاں پر انکی بد فعلی دیکھنے والا کوئی نا ہو ... وہ حریم کی نازک کلائی کو زور سے پکڑ کر لے کر گئے اور دیواروں پر ہاتھ رکھ کر حریم کو اپنے ہاتھوں کے بیچ کھڑا کر کے کہنے لگے حریم مجھے بوسہ دو حریم ڈر سے بھاگنے کی کوشش کی وہ اسے پکڑ لئے اور زبردستی کرنا شروع کردئیے حریم کو وہ اپنے گلے لگانے کی کوشش کیے اور کوشش میں کامیاب بھی ہوئے گلے لگاتے ہوئے وہ اپنے ہاتھوں کو حریم کے شرمگاہوں تک لے لے گئے حریم کی پوری طرح عصمت کو پامال کرنے لگے حریم کی آواز بند تھی اور آنکھیں نم تھی اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا آخر اس کے ساتھ ہوکیا رہا ہے وہ دوڑ کر وہاں سے گھبراتے ہوئے وہاں سے بھاگنے لگی قمر بھائی اسے پکڑ لئے اور ان کو اس بات کا ڈر لاحق ہوا کہ حریم سب کے سامنے ان کا وحشیانہ پن ظاہر نا کردے وہ انہیں آئسکریم پکڑا دئیے اور پھر ساتھ میں بے وجہ کی باتیں کرتے ہوئے لیکر آئیں ہم سبھوں کو دیکھر کر حریم زوردار رونے لگی اور قمر بھائی سے چھپنے لگی....
تبصرے