کوئی صورت نکال دے مولا کام بگڑا سنبھال دے مولا بحر عصیاں میں ہے مری کشتی تو کرم سے نکال دے مولا رکھ بچا کر حرام روزی سے مجھ کو رزقِ حلال دے مولا چڑھتے سورج کو آنکھ دکھلاؤں مجھ کو ایسا کمال دے مولا اپنا رستہ بھٹک نہ جاؤں میں ہر گھڑی یہ خیال دے مولا اپنے رحمت بھرے خزانے کو میری جھولی میں ڈال دے مولا ہجر ججتی نہیں ہے خالد کو ہر گھڑی کا وصال دے مولا
غزل زباں خاموش ہے دل کہہ رہا ہے اچانک یہ مجھے ہو کیا گیا ہے کبھی ہی مل نہیں سکتا مجھے جو اسی پر کیوں فدا یہ دل ہوا ہے تو باتیں کتنی پیاری کر رہا ہے ترا لہجہ مجھے اچھا لگا ہے مری آنکھوں کو کیوں تم دیکھتے ہو ترا چہرہ ہے اس میں اور کیا ہے خدا کو کیوں پکاروں زاہدوں میں مجھے معلوم ہے مجھ میں خدا ہے نہ نیند آئی نہ آیا چین بھی اب یہ خالدؔ عشق ہے یا پھر بلا ہے
نکاح۔۔۔۔اسلام نے جتنا اسے آسان بنایا ہے اسلام کے ماننے والوں نے اتنا ہی اسے مشکل ترین بنادیا ہے یہی وجہ ہے کہ آج سماج میں بے حیائی عام ہوچکی ہے اور نوجوان نسل زیادہ سے زیادہ فحاش ہوگئی ہے قانون اسلام ہے کہ سن بلوغیت ہوتے ہوتے جلد از جلد ازدواجی زندگی سے منسلک ہونا بھلائی کی راہ ہے مگر ہم اس بھلائی کی راہ کو اتنا گٹھن بنا گئے ہیں کہ سن بلوغیت آتے ہی نکاح کے علاوہ ہر کام آسان نظر آتا ہے ۔۔۔ اس مشکل ترین روایت نے غریب کے گھروں میں بے حیائی کو پس پردہ خوب ہوا دی ہے غریب لڑکے ہوں یا لڑکیاں سن بلوغیت پاتے ہی نفس سے مغلوب ہو کر ایسے کام کر جاتے جس کا افسوس کہیں نا کہیں انہیں بھی رہتا ہے ۔۔ نکاح کو شادی بنایا گیا اور بد مذہب رسم و رواج شامل کیے گئے اور آج اس پاکیزہ دستور کے بت پاش پاش ہوتے ہوئے نظر آ رہے ہیں مگر وہ کہتے ہیں نا کہ کچھ لوگ باقی ہیں کہ جنہیں سمجھایا جائے تو سمجھتے ہیں آصف اقبال انہیں میں سے ہے زندگی کی کم سنی ہی میں خوب تجربے کرنے کا عادی ،سن بلوغیت پر قدم رکھتے ہی سوچنے پر مجبور ہوا کہ میں کیا کروں خود کو فحاش بنانے سے اچھا ہے کہ ذہن کو گھریلوں معاملات میں الجھا دوں ک...
تبصرے