اشاعتیں

جولائی, 2021 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

شکاری

                                                            شہباز خالؔد کلکتوی  خدا نے اسے نہایت ناز سے خلق کیا ہے شاید اس کے جسم کو بہت انوکھے انداز میں ڈھالا ہے بہت خوبصورت ہے اسکی خوبصورتی کا کوئی بھی گرویدہ ہوجائے اسکی آنکھوں میں نشہ ہے جادو ہے اسکی لہراتی زلفیں کسی بادل سے کم نہیں اس کا چلنا بجلیوں سا اس کا بولنا ایسا کہ جو ایک بار آواز سن لے تو ہمیشہ کیلئے اس کے کانوں میں وہ آواز سلامت ہوجائے  مجھے یاد ہے اس روز بھی وہ سب سے الگ لگ رہی تھی جب ہم لوگ خوشیاں منانے گئے تھے پروگرام کے کامیابی کی خوشی کا جشن تھا بہت سارے لوگ تھے ساتھ میں حریم بھی تھی .... جانے سے ایک روز پہلے باقی سب تیار تھے جانے کیلئے  مگر حریم اور میں تیار نہیں تھا سب مجھے کہہ رہے تھے کہ آپ کو بھی چلنا ہے آپ نہیں جائیں گے تو اچھا نہیں لگے گا اور میں یہ الفاظ حریم سے کہہ رہا تھا کہ حریم آپ چلیں گی تو میں بھی جاؤنگا وہ مان گئی تو راتوں ہی راتوں میں نے سبھو...

غزل

 کسے  خبر  ہے کہ  عمر اپنی  یہ سوچنے  میں گزر  رہی ہے میں یاد اس کو تو کر رہا ہوں وہ کیا مجھے یاد کر رہی ہے تمہیں  جو  تلقین  ہم  کیے  تھے  وہ یاد  ہے تو بتاؤ  ہم کو ہوا  چلی  تو تمہاری  کیا  زلف  یار  اب بھی  بکھر رہی ہے  نہیں  لگا  کال  جب تمہارا   تو  مجھ  کو ایسا   گمان  آیا تو میرا نمبر ملا  رہی  ہے تو فون  مجھ کو ہی کر  رہی ہے میں  ایک  بے رنگ  سا پرندہ وہ ایک قوسِ قزح کی صورت وہ رنگ اپنی حیات سے لے کے میرے جیون میں بھر رہی ہے اذیتیں ،  مشکلیں ،  پریشانی ،  اضطرابی ،  یہ   سوچنا   ہے وہ  میری تعبیر  کب بنے  گی جو روز  خوابِ  سحر  رہی ہے تمہارا  چہرہ  ہے  دن  سنہرا  تو  آئے  مٹ جائے سب اندھیرا تمہارے  آنے  سے  یوں  لگے  آسماں  سے رحمت اتر  رہی...