شکاری
شہباز خالؔد کلکتوی خدا نے اسے نہایت ناز سے خلق کیا ہے شاید اس کے جسم کو بہت انوکھے انداز میں ڈھالا ہے بہت خوبصورت ہے اسکی خوبصورتی کا کوئی بھی گرویدہ ہوجائے اسکی آنکھوں میں نشہ ہے جادو ہے اسکی لہراتی زلفیں کسی بادل سے کم نہیں اس کا چلنا بجلیوں سا اس کا بولنا ایسا کہ جو ایک بار آواز سن لے تو ہمیشہ کیلئے اس کے کانوں میں وہ آواز سلامت ہوجائے مجھے یاد ہے اس روز بھی وہ سب سے الگ لگ رہی تھی جب ہم لوگ خوشیاں منانے گئے تھے پروگرام کے کامیابی کی خوشی کا جشن تھا بہت سارے لوگ تھے ساتھ میں حریم بھی تھی .... جانے سے ایک روز پہلے باقی سب تیار تھے جانے کیلئے مگر حریم اور میں تیار نہیں تھا سب مجھے کہہ رہے تھے کہ آپ کو بھی چلنا ہے آپ نہیں جائیں گے تو اچھا نہیں لگے گا اور میں یہ الفاظ حریم سے کہہ رہا تھا کہ حریم آپ چلیں گی تو میں بھی جاؤنگا وہ مان گئی تو راتوں ہی راتوں میں نے سبھو...